ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / یوپی بہارکے لوگ گجرات چھوڑنے پر مجبور شمالی ہند کے باشندوں پر حملے کے معاملے میں 400 سے زیادہ گرفتار

یوپی بہارکے لوگ گجرات چھوڑنے پر مجبور شمالی ہند کے باشندوں پر حملے کے معاملے میں 400 سے زیادہ گرفتار

Tue, 09 Oct 2018 10:52:49    S.O. News Service

نئی دہلی،9؍اکتوبر (ایس او نیوز؍یواین آئی) گجرات میں گذشتہ چند دنوں میں شمالی ہندوستان کے لوگوں کے خلاف تشدد کے واقعات کے درمیان بہار اور یوپی پہنچنے والے لوگوں نے بتایا کہ 47 لوگوں کو وہاں اغوا کرلیا گیا ہے۔ جس کے بعد افراتفری مچی ہوئی ہے ۔بہار کے وزیراعلیٰ نتیش کمار اور یوپی کے وزیراعلیٰ آدتیہ ناتھ نے گجرات کے وزیراعلیٰ سے اس معاملے میں گفتگو کی ہے۔ گجرات کے وزیر اعلیٰ وجے روپانی نے آج لوگوں سے امن و امان برقرار رکھنے کی اپیل کی ۔خیال رہے کہ چند دنوں قبل شمالی گجرات کے سابر کانٹھا ضلع کے ڈھنڈرگاؤں کے ٹھاکور فرقہ کی 14ماہ کی ایک بچی کے ساتھ عصمت دری کے معاملے میں بہار کے رہنے والے ایک مزدور کی گرفتاری کے بعد ریاست کے شمالی اضلاع میں تشدد کے واقعات ہورہے ہیں۔مسٹر روپانی نے انہیں غیر گجراتیوں کی گجرات میں مکمل سلامتی فراہم کرنے کی یقین دہانی کرائی۔انہوں نے کہا کہ دیگر ریاستوں کے لوگوں پر حملہ کرکے گجرات کے امن کو تباہ کرنے کی کوشش کرنے والے عناصر کوپولیس نے چند گھنٹوں کے اندر گرفتار کرلیا ہے ۔ سلامتی کے لئے پولیس نے خاطر خواہ اقدامات کئے ہیں۔مسٹر روپانی نے کہا کہ یہ روایت رہی ہے کہ دیگر ریاستوں سے آنے والے لوگوں کواپنا سمجھ کر تسلیم کیا ہے ۔ یہاں تمام ریاست کے لوگ امن اور خیر سگالی کے ماحول میں رہتے ہیں ۔ اٹوٹ ہندوستان میں گجراتی اور غیر گجراتی سبھی ایک ہیں۔اس دورا ن وزیر داخلہ پردیپ جڈیجہ اور چیف سکریٹری جے این سنگھ نے بھی آج اس سلسلے میں میٹنگیں کی ۔ مسٹر جڈیجہ نے کہا کہ پہلے ذات پات کے نام پر گجرات کو تقسیم کرنے کی سازش ناکام ہونے پر اب کچھ لوگ اس طرح کی کوشش کررہے ہیں لیکن انہیں کامیاب نہیں ہونے دیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ لوگوں کو گجرات میں پوری سلامتی دی جائے گی اور انہیں واپس نہیں لوٹنا چاہئے ۔ تشدد سے متاثرہ تمام اضلاع کے کلکٹروں اور پولیس سپرنٹنڈنٹوں کے ساتھ ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعہ میٹنگ کے بعد مسٹر سنگھ نے کہا کہ اب تک52 معاملات میں431لوگوں کو گرفتار کیا گیا ہے ۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ پچھلے چوبیس گھنٹے میں اکا دکا واقعات کو چھوڑ کر کسی بڑے واقعہ کی کوئی اطلاع نہیں ہے ۔ یہ دور اب ختم ہونے والا ہے ۔

انہوں نے کہا کہ گجرات چھوڑ کر جانے والے لوگوں کے بارے میں کوئی پختہ اعدادو شمار نہیں ہیں لیکن ان میں سے بیشتر درگا پوجا اور دیگر تہواروں کے مدنظر گئے ہیں۔ مسٹر سنگھ بھی بہار کے متھیلا علاقے کے رہنے والے ہیں،انہوں نے کہا کہ گجرات سمیت پورا ہندوستان تمام ہندوستانیوں کے لئے ہے او رکوئی بھی اپنی خواہش کے مطابق کہیں بھی رہ سکتا ہے ۔ مسٹر سنگھ نے واپس لوٹنے والے لوگوں سے گجرات واپس آنے کی بھی اپیل کی اور کہا کہ خاندان میں بھی چھوٹے موٹے تنازعات ہوجاتے ہیں۔


Share: